Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Hajat Rawa Mushkil Kusha حاجت روا مشکل کشا سوانح شاہ شمس مجھے ہے حکم اذان معروف

SKU: 36504575322

4.6
USD400.00 USD421.00

Pay in 4 interest-free payments of $100.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Description

مجھے ہے حکم اذان معروف مصنفہ ام مریم کا ایک روشن خیال اور تعلیمی ناول ہے۔ ماہرانہ طور پر تیار کی گئی تحریر کے ساتھ، یہ ناول عقیدے اور ثقافت کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے، جو قارئین کو غور کرنے کے لیے بصیرت اور نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔ انسانی تجربے کے بارے میں اپنی سمجھ کو وسیع کرنے کی کوشش کرنے والے ہر فرد کے لیے ضرور پڑھنا چاہیے۔

حرف سے لفظ تک

بہت سے من گھڑت اعتراضات کا مدلل جواب اس میں دیا گیا۔

خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبد العزیز کےبعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زندگی کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ ،دوست اوردوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کےدربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے ۔سلطان نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا عماد الدین زنگی سلجوقی حکومت کی طرف سے شہر موصل کا حاکم تھا۔ جب سلجوقی حکومت کمزور ہوگئی تو اس نے زنگی سلطنت قائم کرلی اورعیسائیوں کو شکستوں پر شکستیں دیں جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سلطان نورالدین زنگی ‘‘ معروف سوانح نگار اور ادیب محترم طالب ہاشمی کی تصنیف ہے ۔ جس نے انہوں چھٹی صدر ہجری کے مجاہد ِ اعظم نورالدین زنگ کی شخصیت ،حیات وخدمات اور ان کے جنگی کارناموں کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا۔ جو یقینا تاریخ کے طالب علم کےلیے لائق مطالعہ ہے

ساتویں صدی ہجری ( تیرہویں صدی عیسوی) کے عین وسط میں ،جب بغداد کی عباسی خلافت کا انحطاط انتہاء کو پہنچ چکا تھا،قاہرہ کی فاطمی خلافت دم توڑ چکی تھی،سلجوقی،زنگی اور ایوبی حکمران اپنی طاقت باہمی چپقلشوں میں ختم کر چکے تھے ،یوسف صدیق اور فراعنہ کی سر زمین مصر میں چشم فلک نے ایک عجیب نظارہ دیکھا ،تاتار گردی میں غلام بنا کر اہل مصر کے ہاتھ فروخت کئے گئے کوہ قاف کے سفید باشندے مصر کے تاج وتخت کے مالک بن گئے۔اور پھر پونے تین سو سال تک بحر وبر پر اس شان سے حکمرانی کی کہ مشہور مستشرق پروفیسر فلپ کے بیان کے مطابق مشرق ومغرب کا کوئی حکمران ان کی برابری کا دم نہیں بھر سکتا تھا۔الملک الظاہر سلطان رکن الدین بیبرس انہی غریب الدیار غلاموں کی جماعت کا ایک فرد تھا،جو دمشق کی منڈی میں ایک حقیر رقم پر فروخت ہوااور پھر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور بخت کی یاوری کی بدولت مصر کے تاج وتخت اور خزانوں کا مالک بن گیا۔سلطان بیبرس کہنے کو تو اپنے سلسلہ ممالیک بحری کا چوتھا حکمران تھا ،لیکن حقیقت میں وہ پہلا مملوک فرمان روا تھا جس نے مملوک سلطنت کی بنیادیں استوار کیں اور اس کو ایک ایسی عالمی طاقت بنا دیا کہ اس کا نام سن کر دشمنان اسلام کے جسموں پر لرزہ طاری ہو جایا کرتا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " الملک الظاہر بیبرس بند قداری " محترم طالب ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے الملک الظاہر سلطان رکن الدین بیبرس اور اس کی قائم کردہ سلطنت کے حالات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔تاریخ کے طالب علموں کے لئے یہ ایک شاندار کتاب ہے ،جس کا انہیں ضرور مطالعہ کرنا چاہئے

Hajat Rawa Mushkil Kusha حاجت روا مشکل کشا سوانح شاہ شمس مجھے ہے حکم اذان معروف

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products